العربية (الأصل)
1325 - أنا أَبُو الْقَاسِمِ، حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَطْرَابُلْسِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ، يُوسُفُ بْنُ الْقَاسِمِ الْمَيَانَجِيُّ، نا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ إِدْرِيسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا فَيَقُولُ: «إِنَّمَا هُمَا اثْنَانِ الْهَدْي وَالْكَلَامُ، فَأَصْدَقُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنُ الْهَدْي هَدْي مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، لَا يَتَطَاوَلُ عَلَيْكُمُ الْأَمَدُ، وَلَا يُلْهِيَنَّكُمُ الْأَمَلُ، فَكُلُّ مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ، الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ، أَلَا وَإِنَّ قِتَالَ الْمُؤْمِنِ كُفْرٌ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثٍ، وَشَرُّ الرَّوَايَا رَوَايَا الْكَذِبِ، لَا يَصْلُحُ مِنَ الْكَذِبِ جَدٌّ وَلَا هَزْلٌ، وَلَا يُعِدُ الرَّجُلُ ابْنَهُ، ثُمَّ لَا يُنْجِزُ لَهُ، إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ»
الترجمة الإنجليزية
This narration is also reported through another chain with the same wording.
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کرتے:”اصل چیزیں دو ہیں: طریقہ اور کلام۔ پس سب سے زیادہ سچی بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین میں) جاری کیے جانے والے نئے نئے کام ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ تم میں لمبی زندگی کی خواہش نہ آئے اور نہ آرزو تمہیں غفلت میں ڈال دے۔ ہر آنے والی چیز قریب ہے۔ بدبخت وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں بدبخت قرار پایا اور خوش بخت وہ ہے جس نے دوسروں (کے برے انجام) سے نصیحت پکڑی۔ خبردار! بے شک مؤمن سے لڑنا کفر ہے اور اسے گالی دینا فسق ہے۔ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان سے ترک تعلق رکھے۔ بدترین روایات جھوٹی روایتیں ہیں۔ جھوٹ نہ سنجیدگی سے بولنا جائز ہے اور نہ مذاق میں۔ اور آدمی اپنے بیٹے سے کوئی ایسا وعدہ نہ کرے جسے (بعد میں) پورا نہ کر سکے۔ اور بے شک سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور بے شک جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔“[مسند الشهاب/حدیث: 1325]
