العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سُوءٍ قِيلَ لَهُ: وَمَا هَمَمْتَ بِهِ؟ قَالَ: هَمَمْتُ أَنْ أَقْعُدَ وَأَدَعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم. حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، نَحْوَهُ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat 'Abdullah said:“I performed the ritual prayer one night with Allah’s Messenger (All^ bless him and give him peace), and he remained standing until I almost did something bad.” He was asked: “What did you almost do?” He replied: “I nearly sat down and left the Noble Prophet (Allah bless him and give him peace) in the lurch!”
الترجمة الأردية
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ اتنی دیر تک کھڑے رہے کہ میں نے ایک بری بات کا ارادہ کر لیا۔ پوچھا گیا: آپ نے کیا ارادہ کیا؟ فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ بیٹھ جاؤں اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ دوں۔
