العربية (الأصل)
نا نا أَبُو عَوَانَةَ، وَجَرِيرٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , قَالَ: قُلْتُلابْنِ عَبَّاسٍ:آمُرُ إِمَامِي بِالْمَعْرُوفِ؟ قَالَ:" إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَقْتُلَكَ فَلا، فَإِنْ كُنْتَ وَلا بُدَّ فَاعِلا فَفِيمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ", وَزَادَ أَبُو عَوَانَةَ:" وَلا تَغْتَبْ إِمَامَكَ".
الترجمة الإنجليزية
Sa'id ibn Jubayr (may Allah have mercy on him) said: "I asked Ibn 'Abbas: 'Should I command my leader to do good?' He said: 'If you fear he will kill you, then no. But if you must, then do so between you and him privately.' Abu 'Awanah added: 'And do not backbite your leader.'"
الترجمة الأردية
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا میں اپنے امام کو نیکی کا حکم دوں؟ انہوں نے فرمایا: اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ وہ تمہیں قتل کر دے گا تو نہ کہو، اور اگر ضرور کہنا ہو تو اسے اپنے اور اس کے درمیان آهستہ کہو، اور ابو عوانہ رحمہ اللہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: اور اپنے امام کی غیبت نہ کرو۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 846]
