العربية (الأصل)
نا نا عَتَّابُ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ, فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ سورة المائدة آية 101 , قَالَ:" يَعْنِيالْبَحِيرَةَ، وَالسَّائِبَةَ، وَالْوَصِيلَةَ، وَالْحَامِ، أَلا تَرَى أَنَّهُ يَقُولُ: مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ كَذَا وَكَذَا"، وَأَمَّا عِكْرِمَةُ , فَإِنَّهُ قَالَ:" كَانُوا يَسْأَلُونَ عَنِ الآيَاتِ فَنُهُوا عَنْ ذَلِكَ"، ثُمَّ قَالَ:" قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِينَ سورة المائدة آية 102"، فَقُلْتُ: إِنَّهُ حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ بِخِلافِ هَذَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَمَا لَكَ تَقُولُ هَذَا؟ فَقَالَ:" هَاهْ".
الترجمة الإنجليزية
Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with them both) said regarding 'Do not ask about things' (5:101): "This refers to the bahirah, the sa'ibah, the wasilah, and the ham. Do you not see that He says: 'Allah has not ordained such and such'?" As for 'Ikrimah, he said: "People used to ask the Messenger of Allah (peace be upon him) about things until they became burdensome."
الترجمة الأردية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے فرمان﴿لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ﴾کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: اللہ نے ان میں سے کوئی چیز مقرر نہیں فرمائی۔ جبکہ عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے آیات کے متعلق سوال کرتے تھے تو انہیں اس سے منع کر دیا گیا۔ پھر انہوں نے فرمایا:﴿قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِينَ﴾یعنی تم سے پہلے بھی ایک قوم نے ایسے سوالات کیے، پھر اس کے منکر ہوگئے۔ اس پر میں نے عکرمہ سے کہا: مجھے تو مجاہد رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے خلاف بیان کیا ہے، تو تم ایسا کیوں کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: جواب دینے سے عاجز ہو کر ہاں بس ایسا ہی ہے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 839]
