العربية (الأصل)
نا نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ كُرْدُمٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ, قَالَ:أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَلأْتُ حَوْضِي أَنْتَظِرُ ظَمِيَّتِي تَرِدُ عَلَيَّ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلا بِرَجُلٍ قَدْ أَشْرَعَ نَاقَتَهُ، وَثَلَمَ الْحَوْضَ، وَسَالَ الْمَاءُ، فَقُمْتُ فَزِعًا، فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ، فَقَتَلْتُهُ؟ فَقَالَ:" لَيْسَ هَذَا مِثْلَ الَّذِي قَالَ، فَأَمَرَهُ بِالتَّوْبَةِ", قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ أَهْلُ الْعِلْمِ إِذَا سُئِلُوا قَالُوا: لا تَوْبَةَ لَهُ، فَإِذَا ابْتُلِيَ رَجُلٌ، قَالُوا لَهُ: تُبْ.
الترجمة الإنجليزية
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) was visited by a man who said: 'I filled my water trough waiting for my thirsty camel, but I did not wake up until a man had brought his she-camel in, damaged the trough, and the water drained away. I jumped up in alarm and struck him with my sword and killed him.' Ibn Abbas said: 'This is not like the case of deliberate murder mentioned in the verse with the severe warning,' and he ordered the man to repent. Sufyan said: The scholars, when asked, would say: 'There is no repentance for him.' But when someone was actually afflicted, they would tell him: 'Repent.'
الترجمة الأردية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور کہا: میں نے اپنا حوض پانی سے بھر کر اپنی اونٹنی کے پیاسے ہونے کا انتظار کیا، مگر اچانک ایک شخص اونٹنی سمیت آیا، حوض میں داخل ہو گیا، پانی بہہ گیا، میں گھبرا کر اٹھا اور تلوار سے وار کر کے اسے قتل کر دیا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ اس قاتل عمد کے مانند نہیں جس کا ذکر شدید وعید والی آیت میں آیا ہے، پھر اس شخص کو توبہ کا حکم دیا۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: اہل علم جب فتویٰ دیتے تو کہتے: اس کے لیے توبہ نہیں، لیکن جب کسی پر واقعہ پیش آتا تو اس سے کہتے: توبہ کر۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 675]
