العربية (الأصل)
نَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: نَا أَبُو هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ:" هُوَ الرَّجُلُ يَرْزُقُهُ اللَّهُ الْمَالَ، فَيَمْنَعُ قَرَابَتَهُ الْحَقَّ الَّذِي جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ فِي مَالِهِ، فَيُجْعَلُ حَيَّةً، فَيُطَوَّقُهَا فَيَقُولُ لِلْحَيَّةِ: مَا لِي وَمَا لَكِ؟، فَتَقُولُ: أَنَا مَالُكَ".
الترجمة الإنجليزية
Ali (may Allah be pleased with him) said: You recite 'After any bequest or debt,' but the Messenger of Allah (peace be upon him) judged that debt comes before bequest.
الترجمة الأردية
مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ وہ شخص ہے جسے اللہ مال عطا کرتا ہے، مگر وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اس مال میں اللہ کی مقرر کردہ حق داریاں نہیں دیتا، تو وہ مال ایک سانپ بنا دیا جاتا ہے اور اس کے گلے کا طوق بنا دیا جاتا ہے۔ پھر وہ اس سانپ سے کہتا ہے: تجھ سے میرا کیا تعلق؟ تو وہ سانپ کہتا ہے: میں تیرا مال ہوں۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 550]
