العربية (الأصل)
نَاأَبُو مَعْشَرٍ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ, قَالَ:" قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَالنَّاسُ يَتَكَلَّمُونَ فِي الصَّلاةِ فِي حَوَائِجِهِمْ كَمَا يَتَكَلَّمُ أَهْلُ الْكِتَابِ فِي الصَّلاةِ فِي حَوَائِجِهِمْ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238".
الترجمة الإنجليزية
Muhammad ibn Ka'b (may Allah have mercy on him) said: When the Messenger of Allah (peace be upon him) arrived in Madinah, people used to talk during prayer about their needs, as the People of the Book used to speak during their prayers about their needs, until this verse was revealed: 'And stand before Allah devoutly obedient' (al-Baqarah: 238).
الترجمة الأردية
رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمجب مدینہ تشریف لائے تو لوگ نماز میں اپنی ضروریات کے متعلق گفتگو کرتے تھے، جیسے اہل کتاب اپنی نماز میں اپنی ضروریات کے بارے میں بات کرتے تھے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی:﴿وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾(اور اللہ کے لیے ادب سے کھڑے ہو جاؤ)۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 407]
