العربية (الأصل)
نا ناإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِيأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الشَّقَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِيأَبُو الْقَعْقَاعِ، قَالَ: شَهِدْتُ الْقَادِسِيَّةَ وَأَنَا غُلامٌ، أَوْ يَافِعٌ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَىعَبْدِ اللَّهِ, فَقَالَ: آتِي امْرَأَتِي كَيْفَ شِئْتُ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَحَيْثُ شِئْتَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَّى شِئْتَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفَطِنَ لَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَأْتِيَهَا فِي مَقْعَدَتِهَا، فَقَالَ:" لا،مَحَاشُّ النِّسَاءِ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ".
الترجمة الإنجليزية
Abu al-Qa'qa' narrated: I witnessed the Battle of Qadisiyyah when I was a boy. A man came to Abdullah (ibn Mas'ud) and asked: May I approach my wife however I wish? He said: Yes. He asked: And wherever I wish? He said: Yes. He asked: And in any manner I wish? He said: Yes. Then a man understood his intent and said: He wants to approach her in her rear. Abdullah said: No! The rear passages of women are forbidden to you.
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا:”کیا میں اپنی بیوی کے پاس جیسے چاہوں آ سکتا ہوں؟“سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:”ہاں۔“اس نے پوچھا:”اور جہاں چاہوں؟“فرمایا:”ہاں۔“اس نے پوچھا:”اور جس طریقے سے چاہوں؟“فرمایا:”ہاں۔“اتنے میں ایک شخص سمجھ گیا کہ وہ اپنی بیوی کے پاس دبر سے جانا چاہتا ہے، تو اس نے کہا:”یہ اپنی بیوی کے پاس پچھلے راستے سے جانا چاہتا ہے۔“سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:”نہیں، عورتوں کے پچھلے راستے تم پر حرام ہیں۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 370]
