العربية (الأصل)
نا ناهُشَيْمٌ، قَالَ: ناعَوْفٌ، عَنْزِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْأَبِيهِ, قَالَ:نَزَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَجَعَلَ يَسُوقُهَا، وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ:" وَهُنَّ يَمْشِينَ بِنَا هَمِيسًا إِنْ تَصْدُقِ الطَّيْرُ نَنِكْ لَمِيسًا" ذَكَرَ الْجِمَاعَ، وَلَمْ يُكَنِّ عَنْهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ , تَقُولُ الرَّفَثَ وَأَنْتَ مُحْرِمٌ؟ , قَالَ:" الرَّفَثُ: مَا رُوجِعَ بِهِ النِّسَاءُ".
الترجمة الإنجليزية
Ziyad ibn Husayn narrated from his father: Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) dismounted from his riding camel and began leading it while reciting rajaz poetry: 'They walk carrying us with a gentle gait; if the birds speak true, we shall lie with Lamis.' He mentioned sexual intercourse explicitly without using euphemisms. I said: O Abu Abbas, you speak of obscenity while in ihram? He replied: 'Rafath' is only what is said directly to women.
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی سواری سے اترے، اسے ہانکنے لگے اور یہ شعر پڑھنے لگے:«وَهُنَّ يَمْشِينَ بِنَا هَمِيسًا، إِنْ تَصْدُقِ الطَّيْرُ نَنِكْ لَمِيسًا»(وہ سبک خرامی سے ہمیں لے جا رہی ہیں، اگر پرندے سچ بولتے ہیں تو ہم لمیس سے ہمبستری کریں گے۔) انہوں نے جماع کا ذکر صریح الفاظ میں کیا اور کوئی کنایہ نہ کیا، میں نے کہا: اے ابوعباس! آپ محرم ہو کر رفث کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: رفث وہ ہے جس میں عورتوں سے براہ راست بات کی جائے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 345]
