العربية (الأصل)
نا نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: نا أَيُّوبُ، قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّابْنَ عُمَرَ، كَانَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ:مَنْ أَحَقُّ بِهَذَا الأَمْرِ مِنَّا، وَمَنْ يُنَازِعُنَا فِي هَذَا الأَمْرِ؟! قَالَ:" فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ: الَّذِينَ قَاتَلُوكَ وَأَبَاكَ عَلَى الإِسْلامِ، فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ فِي قَوْلِي هَذَا هِرَاقَةُ الدِّمَاءِ، وَأَنْ يُحْمَلَ قَوْلِي عَلَى غَيْرِ الَّذِي أَرَدْتُ، وَذَكَرْتُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْجِنَانِ".
الترجمة الإنجليزية
'Umar (may Allah be pleased with him) said on his deathbed: "I am neither hopeful nor fearful — but if Allah saves me, it is by His mercy."
الترجمة الأردية
حضرت ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”مجھے خبر دی گئی کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کام پر ہم سے زیادہ کون حقدار ہے اور کون ہم سے جھگڑا کر سکتا ہے؟ میں نے ارادہ کیا کہ کہہ دوں: وہ لوگ جنہوں نے تم سے اور تمہارے والد سے اسلام پر جنگ کی، لیکن میں نے خونریزی کے خوف سے بات روک لی اور جنت کو یاد کیا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4153]
