العربية (الأصل)
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ عَوْنٍ، وَيُونُسُ، وَهِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ مَالِكٍ بَارَزَ مُرْزُبَانَ الزَّأْرَةِ بِالْبَحْرَيْنِ فَطَعَنَهُ، فَدَقَّ صُلْبَهُ فَصَرَعَهُ، وَنَزَلَ إِلَيْهِ فَقَطَعَ يَدَهُ، وَأَخَذَ سَوَارِيَهُ وَسَلَبَهُ، فَلَمَّا صَلَّىعُمَرُالظُّهْرَ أَتَى بِطَلْحَةَ فِي دَارِهِ، فَقَالَ:" إِنَّاكُنَّا لا نُخَمِّسُ السَّلَبَ، وَإِنَّ سَلَبَ الْبَرَاءِ قَدْ بَلَغَ مَالا، فَأَنَا خَامِسُهُ"، فَكَانَ أَوَّلُ سَلَبٍ خُمِّسَ فِي الإِسْلامِ سَلَبَ الْبَرَاءِ.
الترجمة الإنجليزية
Ibn Sirin (may Allah have mercy on him) narrated: "Al-Bara ibn Malik fought the Marzuban of al-Za'rah in Bahrain in single combat, pierced him with his spear and broke his spine. He took his bracelets and spoils. When 'Umar prayed the noon prayer, he went to Abu Talhah's house and said: 'We must limit al-Bara's single combats, for we do not want to lose him.' The Marzuban's spoils were valued at thirty thousand."
الترجمة الأردية
ابن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے بحرین میں زأرہ کے مرزبان سے مقابلہ کیا، اسے نیزہ مار کر ریڑھ توڑ دی اور قتل کر دیا، پھر اس کے سوار اور مالِ غنیمت لے لیا۔ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھی تو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر گئے اور فرمایا:”ہم سلب میں خمس (پانچواں حصہ) نہیں نکالا کرتے تھے، لیکن براء کا سلب اتنا قیمتی ہے کہ میں اسے خمس کر رہا ہوں۔“چنانچہ اسلام میں سب سے پہلے براء رضی اللہ عنہ کا سلب خمس کیا گیا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3885]
