العربية (الأصل)
نايَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِيأَبِي، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ جَاءَتْ أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَتْ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجَرْتُ أَحْمَائِي، وَأَغْلَقْتُ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّ ابْنَ أُمِّي أَرَادَ قَتْلَهُمْ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ:" قَدْأَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ، إِنَّمَا يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ"، ثُمَّ جَاءَهَا فَتَوَضَّأَ عِنْدَهَا، ثُمَّ تَعَطَّفَ بِثَوْبِهِ، وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ.
الترجمة الإنجليزية
On the day of the Conquest, Umm Hani (may Allah be pleased with her) came and said: "O Messenger of Allah, I have given protection to my in-laws and locked the door on them, and my brother ('Ali) wants to kill them." The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "We have given protection to whomever you have given protection. The lowest of the Muslims can give protection on behalf of them all."
الترجمة الأردية
فتح مکہ کے دن سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا:”یا رسول اللہ، میں نے اپنے رشتہ داروں کو امان دی ہے، اور دروازہ بند کر دیا ہے، اور میرے بھائی (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔“رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہم نے بھی جسے تم نے امان دی امان دی۔ مسلمانوں میں سے ادنیٰ بھی امان دے تو قبول ہے۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمان کے پاس گئے، وضو فرمایا اور آٹھ رکعتیں ادا کیں۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3789]
