العربية (الأصل)
ناإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْأَيُّوبَ، عَنْحُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ، عَنْهِشَامِ بْنِ عَامِرٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَرْحَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَقَالُوا:كَيْفَ تَأْمُرُنَا بِقَتْلانَا؟ فَقَالَ:" احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَأَحْسِنُوا، وَادْفِنُوا فِي الْقَبْرِ الاثْنَيْنِ وَالثَّلاثَةَ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا". قَالَ هِشَامٌ: فَقُدِّمَ أَبِي بَيْنَ يَدَيِ اثْنَيْنِ.
الترجمة الإنجليزية
Hisham ibn 'Amir al-Ansari (may Allah be pleased with him) said: "The Companions complained to the Messenger of Allah (peace be upon him) about their wounds on the Day of Uhud and asked: 'How do you instruct us regarding our dead?' He said: 'Dig, make it spacious, do it well, and bury two or three in one grave, placing the one who knew more Qur'an in front.' Hisham said: 'My father was placed in front of two others.'"
الترجمة الأردية
سیدنا ہشام بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: احد کے دن صحابہ نے زخموں کی شکایت کی اور کہا:”یا رسول اللہ! اپنے مقتولین کے بارے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”قبریں کھودو، کشادہ کرو، حسن طریقے سے دفناؤ، اور ایک قبر میں دو یا تین کو دفن کرو، اور قرآن زیادہ یاد کرنے والے کو آگے رکھو۔“ہشام کہتے ہیں: میرے والد کو دو افراد کے ساتھ آگے رکھا گیا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3759]
