العربية (الأصل)
نا نا أَبُو الأَحْوَصِ، قَالَ: نا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا عِنْدَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: قُتِلَ فُلانٌ شَهِيدًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهُ قُتِلَ شَهِيدًا؟ إِنَّ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ غَضَبًا، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ رِئَاءً، إِنَّمَاالشَّهِيدُ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا".
الترجمة الإنجليزية
'Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) was sitting with his companions when someone said: "So-and-so was killed as a martyr." Ibn Mas'ud said: "How do you know he was a martyr? A man fights out of anger, tribal zeal, or show. The true martyr is the one who fights so that the word of Allah is supreme."
الترجمة الأردية
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ کسی نے کہا: فلاں شخص شہید ہو گیا، تو آپ نے فرمایا:”تمہیں کیا خبر کہ وہ شہید ہے؟ آدمی غصے، حمیت یا ریا کے لیے بھی لڑتا ہے، اصل شہید وہ ہے جو اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے لڑے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3722]
