العربية (الأصل)
نا نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْأُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِالْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، أَتَكْتَحِلُ بِالإِثْمِدِ فِي عِدَّتِهَا؟ قَالَتْ:" لا وَإِنْ نَفَقَتَا، وَلَكِنْ بِالصَّبِرِ وَالذَّرُورِ".
الترجمة الإنجليزية
Ibrahim al-Nakha'i said regarding the mourning widow: "She does not use kohl for beautification nor dyed clothing, and she does not leave her home."
الترجمة الأردية
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ جس عورت کا شوہر فوت ہو گیا ہو، کیا وہ عدت میں اثمد (مشہور سرمہ) لگائے؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:”نہیں، اگرچہ اس کی آنکھوں میں تکلیف ہو، لیکن صبر اور ذرور (جڑی بوٹیوں سے بنے ہوئے سرمہ) سے علاج کرے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3311]
