العربية (الأصل)
نا نا هُشَيْمٌ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْعَلِيٍّ، قَالَ:" اجْتَمَعَ رَأْيِي وَرَأْيُ عُمَرَ فِيعِتْقِ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ، فَلَمَّا وُلِّيتُ رَأَيْتُ أَنْ أُرِقَّهُنَّ". قَالَ عَبِيدَةُ: فَرَأْيُ عُمَرَ وَعَلِيٍّ فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ رَأْيِ عَلِيٍّ وَحْدَهُ فِي الْفُرْقَةِ.
الترجمة الإنجليزية
Ali said: "My opinion and Umar's opinion agreed on freeing the mothers of children. But when I became caliph, I considered returning them to slavery." Ubayda said: "The opinion of Umar and Ali in consensus is dearer to me than the opinion of Ali alone in dissent."
الترجمة الأردية
حضرت عبیدہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”میرا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ تھا کہ امہات الاولاد کو آزاد کر دیا جائے، لیکن جب مجھے حکومت ملی تو میں نے چاہا کہ انہیں غلامی میں رکھا جائے۔“عبیدہ رحمہ اللہ نے کہا:”جماعت کی رائے، علی رضی اللہ عنہ کی تنہا رائے سے زیادہ محبوب ہے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3225]
