العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَامَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ الْحَسَنِ، فَسَأَلَهُ الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ، فَقَالَ: يَاأَبَا سَعِيدٍ، أَرَأَيْتَقَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمَلائِكَةِ: وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ سورة البقرة آية 33، مَا الَّذِي كَتَمَتِ الْمَلائِكَةُ؟، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمَّا خَلَقَ آدَمَ، رَأَتِ الْمَلائِكَةُ خَلْقًا عَجَبًا، فَكَأَنَّهُمْ دَخَلَهُمْ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، ثُمَّ أَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَأَسَرُّوا ذَلِكَ بَيْنَهُمْ، فَقَالُوا: وَمَا يَهُمُّكُمْ مِنْ أَمْرِ هَذَا الْمَخْلُوقِ؟ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لا يَخْلُقُ خَلْقًا إِلا كُنَّا أَكْرَمَ عَلَيْهِ مِنْهُ".
الترجمة الإنجليزية
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) said: "Whoever reads two hundred verses in a night, the Quran will not argue against him."
الترجمة الأردية
مہدی بن میمون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس تھے، تو حسن بن دینار نے ان سے سوال کیا: اے ابو سعید! اللہ عزوجل کا فرشتوں سے فرمان:﴿وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ﴾(اور میں جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے تھے)، تو فرشتوں نے کیا چیز چھپائی تھی؟ حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: جب اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو فرشتوں نے ایک حیرت انگیز مخلوق دیکھی، تو ان کے دلوں میں کچھ خیال پیدا ہوا۔ پھر وہ آپس میں سرگوشی کرنے لگے اور کہنے لگے:”تمہے اس مخلوق کے بارے میں کیوں فکر ہو رہی ہے؟ یقیناً اللہ عزوجل کوئی بھی مخلوق پیدا کرے، ہم ہمیشہ اس کے ہاں اس سے برتر رہیں گے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 185]
