العربية (الأصل)
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ الْمَكِّيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَىابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنَّهُجَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ حَرَامًا. قَالَ:" فَلَيْسَتْ عَلَيْكَ بِحَرَامٍ". فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ: أَلَيْسَ اللَّهُ تَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ سورة آل عمران آية 93؟ , فَضَحِكَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَالَ:" مَا يُدْرِيكَ مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ؟" ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ يُحَدِّثُهُمْ، فَقَالَ:" إِنَّ إِسْرَائِيلَ عَرَضَتْ لَهُ الأَنْسَاءُ فَأَضْنَتْهُ، فَجَعَلَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ إِنْ شَفَاهُ أَنْ لا يَأْكُلَ عِرْقًا، فَلِذَلِكَ الْيَهُودُ يَنْزِعُ الْعُرُوقَ مِنَ اللَّحْمِ".
الترجمة الإنجليزية
A man came to Ibn 'Abbas and said that he had declared his wife forbidden to himself. Ibn 'Abbas said: "She is not forbidden to you." The Bedouin said: "Does not Allah say in His Book: 'All food was lawful for the children of Israel except what Israel made unlawful for himself' [3:93]?" Ibn 'Abbas laughed and said: "What do you know about what Israel made unlawful for himself?" Then he told the people: "Israel (Ya'qub, peace be upon him) suffered from sciatica, so he vowed to Allah that if He healed him, he would not eat sinew. That is why Jews remove the sinews from meat."
الترجمة الأردية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہا: میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:”وہ تم پر حرام نہیں۔“اعرابی نے کہا: کیا اللہ نے قرآن میں نہیں فرمایا:«كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ»؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہنسے اور فرمایا:”تمہیں کیا معلوم اسرائیل نے اپنے اوپر کیا حرام کیا تھا۔“پھر لوگوں سے فرمایا: اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) کو عرق النساء کی بیماری ہوئی تھی تو انہوں نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے انہیں شفا دی تو وہ کسی نس ندی کا گوشت نہ کھائیں گے۔ اس لیے یہودی گوشت سے نسیں نکالتے ہیں۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 2861]
