العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" إِذَا قَبِلَ الْفِدَاءَ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ، وَيَخْطُبُهَا فِي الْعِدَّةِ إِنْ شَاءَ وَشَاءَتْ".
الترجمة الإنجليزية
Al-Hasan al-Basri used to say: "If he accepts the ransom (fidyah), it counts as one divorce. He may propose to her during the waiting period if he and she both wish."
الترجمة الأردية
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر شوہر فدیہ قبول کر لے تو یہ ایک طلاق ہو گئی، اور عدت میں چاہے تو دوبارہ نکاح کی بات چیت ہو سکتی ہے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 2625]
