العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ:" إِذَا كَانَ الدَّرْءُ مِنْ قِبَلِهِ لَمْ يَحِلَّ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا شَيْئًا، وَإِنْ كَانَ مِنْ قِبَلِهَا فَلْيَأْخُذْ".
الترجمة الإنجليزية
Al-Sha'bi said: "If the discord is from the husband's side, it is not lawful for him to take anything from her. If it is from her side, then he may take."
الترجمة الأردية
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فر143ا کہ اگر جھگڑا شوہر کی طرف سے ہو تو اس کے لیے عورت سے کچھ لینا جائز نہیں۔ اگر عورت کی طرف سے ہو تو لے سکتا ہے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 2613]
