العربية (الأصل)
سَمِعْتُ سُفْيَانَ، تَلا هَذِهِ الآيَةَ:رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا سورة يوسف آية 101 , قَالَ:" مَا سَأَلَهَا أَحَدٌ قَبْلَهُ، حِينَ اجْتَمَعَ لَهُ أَبَوَاهُ وَفَرِحَ، سَأَلَ رَبَّهُ أَنْ يَتَوَفَّاهُ وَيَلْحَقَهُ بِالصَّالِحِينَ".
الترجمة الإنجليزية
Mujahid (may Allah have mercy on him) said regarding the verse: 'And on the earth are neighboring tracts' (al-Ra'd: 4) — He said: 'Plots of land next to each other — some are salty and some are good.'
الترجمة الأردية
سعید رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے سفیان رحمہ اللہ کو یہ آیت تلاوت کرتے سنا:﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا﴾یعنی اے میرے رب، تو نے مجھے حکومت عطا کی ہے اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم دیا ہے، اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! تو دنیا و آخرت میں میرا ولی ہے، مجھے مسلمان حالت میں وفات دے۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: سیدنا یوسف علیہ السلام نے یہ درخواست اس وقت کی جب ان کے والدین ان کے پاس جمع ہو گئے اور وہ خوش ہو گئے، تو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ انہیں وفات دے کر صالحین کے ساتھ شامل کر دے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1145]
