العربية (الأصل)
نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:" خَرَجَ يُرِيدُ أَنْ يُجَاعِلَ فِي بَعْثٍ خَرَجَ عَلَيْهِ، فَأَصْبَحَ وَهُوَ يَتَجَهَّزُ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا لَكَ؟ أَلَيْسَ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُجَاعِلَ؟ , قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّيقَرَأْتُ الْبَارِحَةَ سُورَةَ بَرَاءَةَ، فَسَمِعْتُهَا تَحُثُّ عَلَى الْجِهَادِ".
الترجمة الإنجليزية
Abd al-Rahman ibn Yazid (may Allah have mercy on him) said: A man went out intending to hire someone to take his place in an expedition that had been called upon him. The next morning he was preparing himself. I asked him: What happened? Were you not intending to hire someone? He said: Yes, but last night I recited Surah Bara'ah (al-Tawbah) and heard it urging toward jihad.
الترجمة الأردية
عبد الرحمن بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ یعنی ایک شخص کسی لشکر میں اجرت پر شامل ہونے کا ارادہ رکھتا تھا، پس صبح کے وقت وہ تیاری کر رہا تھا، میں نے اس سے کہا: تمہیں کیا ہوا؟ کیا تم نے اجرت پر جانے کا ارادہ نہیں کیا تھا؟ تو اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں نے رات کو سورہ براءت یعنی التوبہ پڑھی اور میں نے سنا کہ وہ جہاد پر ابھارتی ہے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1054]
