العربية (الأصل)
نَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ:إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ سورة التوبة آية 37 قَالَ:" كَانَ النَّاسِي رَجُلا مِنْ كِنَانَةَ، وَكَانَ ذَا رَأْيٍ فِيهِمْ، وَكَانَ يَجْعَلُ الْمُحَرَّمَ سَنَةً صَفَرًا فَيَغْزُو فِيهِ، فَيُصِيبُ فِيهِ، وَسَنَةً يُحَرِّمُهُ فَلا يَغْزُو فِيهِ، وَهُوَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا سورة التوبة آية 37".
الترجمة الإنجليزية
Abu Wa'il (may Allah have mercy on him) said regarding the verse: 'Indeed, the postponing [of restriction within sacred months] is an increase in disbelief' (al-Tawbah: 37) — He said: 'The one who postponed was a man from the tribe of Kinanah who had great influence among them. One year he would make Muharram into Safar so he could raid in it and gain spoils, and the next year he would keep it sacred and not raid. That is the meaning of the verse: "They make it permissible one year and forbidden another year" (al-Tawbah: 37).'
الترجمة الأردية
ابو وائل رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے اس فرمان﴿إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ﴾کے بارے میں فرمایا: ناسی قبیلہ کنانہ کا ایک شخص تھا، جو اپنی قوم میں بہت رائے رکھنے والا تھا، وہ ایک سال محرم کو صفر قرار دے کر اس میں جنگ کرتا اور مال غنیمت حاصل کرتا، اور دوسرے سال محرم کو حرمت والا مہینہ قرار دیتا اور اس میں جنگ نہ کرتا، اور یہی اللہ عزوجل کا فرمان ہے«يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا»۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1015]
