العربية (الأصل)
فمنها حديث زيد بن أرقم رضي الله عنه -الذي سبق في باب إكرام أهل بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم -قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فينا خطيباً، فحمد الله، وأثنى عليه، ووعظ وذكر، ثم قال: “أما بعد”ألا أيها الناس إنما أنا بشر يوشك أن يأتي رسول الله ربي فأجيب، وأنا تارك فيكم ثقلين : " أولهما: كتاب الله، فيه الهدى والنور، فخذو بكتاب الله، واستمسكوا به” فحث على كتاب الله، ورغب فيه، ثم قال: “وأهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي" ((رواه مسلم)) وقد سبق بطوله.
الترجمة الإنجليزية
Then from it is the narration of Hadrat Zaid bin Arqam (may Allah be well pleased with them) that preceded in the Chapter of "Showing reverence to the Family of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)". He said:"One day Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood amongst us to deliver a Khutbah. So he praised Allah, extolled Him, exhorted and reminded (us) and said: 'Amma Ba'du (now then)! O people, certainly I am a human being. I am about to receive a messenger of Allah my Lord (the angel of death) and I respond. And I am leaving among you two weighty things: There first of which is the Book of Allah. In is guidance and light, so hold fast to the Book of Allah and adhere to it.' So he exhorted (us) (to hold fast to it) and encouraged it then said, 'And the members of my household, I remind you of Allah with regards (of your duties) to the members of my family."'. And it has preceded in its entirety.
الترجمة الأردية
اس میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے جو اہلِ بیتِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کے باب میں گزر چکی ہے۔ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان خطبے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی، وعظ و نصیحت فرمائی، پھر ارشاد فرمایا: حمد و صلوٰة کے بعد! سنو، اے لوگو! میں تو ایک بشر ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا بھیجا ہوا (فرشتۂ موت) آئے اور میں اسے لبیک کہوں۔ میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: پہلی اللہ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے، پس اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھامو۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کتاب اللہ کی ترغیب دلائی، پھر ارشاد فرمایا: اور میرے اہلِ بیت، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں۔ (مسلم) یہ حدیث مکمل طور پر پہلے گزر چکی ہے۔
