العربية (الأصل)
وعن عمرو بن العاص رضي الله عنه قال: إذا دفنتمونى، فأقيموا حول قبري قدر ما تنحر جذور، ويقسم لحمها حت أستأنس بكم، وأعلم ماذا أراجع به رسل ربي" ((رواه مسلم. وقد سبق بطوله)). وقال الشافعي رحمه الله: ويستحب أن يقرأ عنده شيء من القرآن، وإن ختموا القرآن عنده كان حسناً.
الترجمة الإنجليزية
'Amr bin Al-'as (may Allah be well pleased with him) used to say:"When you have buried me, keep standing near my grave till (for the time it takes to) a camel is slaughtered and its meat is distributed, so that I may feel your nearness and know what to reply to the angels sent by my Rubb.".
الترجمة الأردية
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے: 'جب تم مجھے دفن کر لو تو میری قبر کے پاس اتنی دیر کھڑے رہو جتنی دیر میں اونٹ ذبح ہو کر اس کا گوشت تقسیم ہوتا ہے، تاکہ مجھے تمہاری موجودگی سے سکون ملے اور میں جان سکوں کہ اپنے رب کے بھیجے ہوئے فرشتوں کو کیا جواب دوں۔' امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: قبر پر قرآن مجید کی تلاوت مستحب ہے اور اگر پورا قرآن ختم کر دیا جائے تو بہت اچھا ہے۔
