العربية (الأصل)
وعن أبي يزيد معن بن يزيد بن الأخنس رضي الله عنهم، وهو وأبوه وجده صحابيون، قال: كان أبي يزيد أخرج دنانير يتصدق بها فوضعها عند رجل في المسجد فجئت فأخذتها فأتيته بها، فقال: والله ما إياك أردت، فخاصمته إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " لك ما نويت يا يزيد، ولك ما أخذت يامعن" ((رواه البخاري)).
الترجمة الإنجليزية
Ma'n bin Yazid bin Akhnas (may Allah be well pleased with them) (he, his father and his grandfather, all were Companions) reported:My father set aside some dinars for charity and gave them to a man in the mosque. I went to that man and took back those dinars. He said: "I had not intended you to be given." So we went to Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and put forth the matter before him. He said to my father, "Yazid, you have been rewarded for what you intended." And he said to me, "Ma'n, you are entitled to what you have taken.".
الترجمة الأردية
حضرت معن بن یزید بن اخنس رضی اللہ تعالیٰ عنہم (یہ، ان کے والد اور ان کے دادا تینوں صحابی ہیں) سے روایت ہے کہ میرے والد یزید نے چند دینار صدقے کے لیے نکالے اور مسجد میں ایک شخص کے پاس رکھ دیے۔ میں آیا اور وہ دینار لے لیے اور والد کے پاس لے گیا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا ارادہ تمہیں دینے کا نہیں تھا! ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے فیصلہ کروایا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے یزید! تمہیں وہ ملا جس کی تم نے نیت کی، اور اے معن! تمہیں وہ ملا جو تم نے لیا۔ (بخاری)
