العربية (الأصل)
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنْ الْخَيْرِ شَيْءٌ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يُخَالِطُ(1) النَّاسَ، وَكَانَ مُوسِرًا، فَكَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنْ الْمُعْسِرِ، قَالَ (2) قَالَ اللَّهُ : نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْكَ، تَجَاوَزُوا عَنْهُ" رواه مسلم (وكذلك البخاري والنسائي)
الترجمة الإنجليزية
On the authority of Hadrat Abu Mas'ud al-Ansari (may Allah be well pleased with him), who said that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: A man from among those who were before you was called to account. Nothing in the way of good was found for him except that he used to have dealings with people and, being well-to-do, he would order his servants to let off the man in straitened circumstances. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated that Allah said: We are worthier than you of that (of being so generous). Let him off. It was related by Muslim (also by al-Bukhari and an-Nasa'i).
الترجمة الأردية
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص کا حساب لیا گیا، اس کے پاس کوئی نیکی نہ پائی گئی سوائے اس کے کہ وہ لوگوں سے لین دین کرتا تھا اور مال دار تھا، تو اپنے غلاموں کو حکم دیتا تھا کہ تنگ دست سے درگزر کرو۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم اس سے زیادہ اس بات کے حق دار ہیں (کہ درگزر کریں)۔ اسے معاف کر دو۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا (نیز بخاری اور نسائی نے بھی)۔
