العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، قَالَ قَالَ طَلْحَةُ لأَهْلِ الْكُوفَةِ فِي النَّبِيذِ فِتْنَةٌ يَرْبُو فِيهَا الصَّغِيرُ وَيَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ قَالَ وَكَانَ إِذَا كَانَ فِيهِمْ عُرْسٌ كَانَ طَلْحَةُ وَزُبَيْرٌ يَسْقِيَانِ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ . فَقِيلَ لِطَلْحَةَ أَلاَ تَسْقِيهِمُ النَّبِيذَ قَالَ إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسْكَرَ مُسْلِمٌ فِي سَبَبِي .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat Ibn Shubrumah (may Allah be well pleased with him) said: "Hadrat Talhah said to the people of Al-Kufah concerning Nabidh: 'It is a test whereby a young man may benefit but an old man may be harmed.' If there was a wedding among them, Hadrat Talhah and Zubaid would offer milk and honey to drink. It was said to Hadrat Talhah: 'Why don't you offer Nabidh?' He said: 'I would not like a Muslim to become intoxicated because of me
الترجمة الأردية
ابن شُبرُمہ فرماتے ہیں: حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہلِ کوفہ سے نبیذ کے بارے میں فرمایا: یہ ایک فتنہ ہے جس میں چھوٹا بڑا ہو جاتا ہے اور بڑا بوڑھا ہو جاتا ہے۔ فرماتے ہیں: جب ان میں کوئی شادی ہوتی تو حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دودھ اور شہد پلاتے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا: آپ انہیں نبیذ کیوں نہیں پلاتے؟ فرمایا: میں ناپسند کرتا ہوں کہ کوئی مسلمان میری وجہ سے نشے میں آئے۔
