العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَنَهَى عَنْهُ . قُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِنِّي أَنْتَبِذُ فِي جَرَّةٍ خَضْرَاءَ نَبِيذًا حُلْوًا فَأَشْرَبُ مِنْهُ فَيُقَرْقِرُ بَطْنِي . قَالَ لاَ تَشْرَبْ مِنْهُ وَإِنْ كَانَ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat Abu Hamzah (may Allah be well pleased with him) said: "I used to interpret between Hadrat Ibn 'Abbas and the people. A woman came to him and asked him about Nabidh made in earthenware jars, and he forbade it. I said: 'O Abu 'Abbas, I make a sweet Nabidh in a green earthenware jar; when I drink it, my stomach makes noises.' He said: 'Do not drink it even if it is sweeter than honey
الترجمة الأردية
حضرت ابوحمزہ فرماتے ہیں: میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کیا کرتا تھا۔ ایک عورت ان کے پاس آئی اور مٹی کے برتن میں بنی نبیذ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: تم کون ہو؟ عرض کیا: ربیعہ۔ فرمایا: خوش آمدید اس قوم کو جو رسوا نہ ہوئی اور پچھتائی نہ — یا فرمایا — پچھتائی نہ اور رسوا نہ ہوئی۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم دور سے آتے ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافر ہیں، ہمیں کوئی ایسا حکم دیجیے جو واضح ہو تاکہ ہم اپنے پیچھے والوں کو بتائیں اور جنت میں داخل ہوں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار سے منع فرمایا: صرف اللہ کی عبادت کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور رمضان کے روزے رکھو اور مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ دو۔ اور انہیں دُبّاء، حَنتَم، مُزَفَّت اور نَقیر سے منع فرمایا۔
