العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتِ امْرَأَتَانِ جَارَتَانِ كَانَ بَيْنَهُمَا صَخَبٌ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ فَأَسْقَطَتْ غُلاَمًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ مَيْتًا وَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ فَقَضَى عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ . فَقَالَ عَمُّهَا إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ غُلاَمًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ . فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَهَلّ وَلاَ شَرِبَ وَلاَ أَكَلْ فَمِثْلُهُ يُطَلّ . قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ وَكِهَانَتِهَا إِنَّ فِي الصَّبِيِّ غُرَّةً " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَتْ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةَ وَالأُخْرَى أُمَّ غَطِيفٍ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat Ibn 'Abbas (may Allah be well pleased with him) said; "There were two women neighbors between whom there was some trouble. One of them threw a rock at the other a she miscarried a boy - whose hair had already grown -0 who was or dead, and the woman died too. He ruled that the 'Aqilah had to pay the Diyah. Her paternal uncle submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), she miscarried a boy whose hair had grown.' The father of the killer said: "He is lying. By Allah he never cried or shouted (at the moment of birth), nor drank nor ate. Such a one should be overlooked.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'rhyming verse like the verse of the Jahiliyyah and of its soothsayers? A slave must be given (as Diyah) for the boy, ''' Ibn 'Abbes said; "One of then was Mulaikah and the other was Umm Ghatif
الترجمة الأردية
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ دو عورتیں پڑوسن تھیں، ان کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ ایک نے دوسری کو پتھر مارا جس سے اس کا حمل گر گیا، ایک لڑکا جس کے بال اگ آئے تھے، مُردہ پیدا ہوا، اور عورت بھی مر گئی۔ آپ نے عاقلہ پر دیت کا فیصلہ فرمایا۔ اس (مقتولہ) کے چچا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے ایک لڑکا گرایا ہے جس کے بال اگ آئے تھے۔ قاتلہ کے باپ نے کہا: یہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم! نہ اس نے چلایا، نہ پیا، نہ کھایا، ایسے کا خون رائیگاں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا جاہلیت کی طرح مسجع بات اور کہانت ہے؟ بچے کے بدلے غُرّہ دینا ہوگا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: ان میں سے ایک ملیکہ تھی اور دوسری اُمّ غطیف۔
