العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمُخْدَجِيَّ سَمِعَ رَجُلاً، بِالشَّامِ يُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ الْوِتْرُ وَاجِبٌ . قَالَ الْمُخْدَجِيُّ فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَاعْتَرَضْتُ لَهُ وَهُوَ رَائِحٌ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ فَقَالَ عُبَادَةُ كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ مَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ " .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat Ibn Muhairiz that a man from Banu Kinanah (may Allah be well pleased with him) who was called Al-Mukhdaji heard a man in Ash-Sham, who was known as Abu Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him), saying that Witr was obligatory. Al-Mukhdaji said: "In the morning I went to Hadrat 'Ubadah bin As-Samit, and I met him while he was on his way to the Masjid. I told him what Abu Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) said, and Hadrat 'Ubadah said: 'Abu Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) is wrong. I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: 'Five prayers are those that Allah has decreed for (His) slaves, whoever does them, and does not neglect any of them out of disregard toward them, will have a promise from Allah that he will admit him to Paradise. And whoever does not to them will have no such promise from Allah; if He wills he will punish him and if He wills He will admit him to Paradise
الترجمة الأردية
ابن محریز سے روایت ہے کہ بنی کنانہ کے ایک آدمی نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا شام میں ایک آدمی کو جس کی کنیت ابو محمد تھی کہتے سنا کہ وتر واجب ہے، مخدجی کہتے ہیں: تو میں عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا، اور میں نے مسجد جاتے ہوئے انہیں راستے ہی میں روک لیا، اور انہیں ابو محمد کی بات بتائی، تو عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ابو محمد نے جھوٹ کہا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو انہیں ادا کرے گا، اور ان میں سے کس کو ہلکا سمجھتے ہوئے ضائع نہیں کرے گا، تو اللہ کا اس سے پختہ وعدہ ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، اور جس نے انہیں ادا نہیں کیا تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہے، اگر چاہے تو اسے عذاب دے، اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے ۔
