العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبِي، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، ح وَأَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، - فَذَكَرَ أَحَدُهُمَا مَا لَمْ يَذْكُرِ الآخَرُ - قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَضْحَى فَقَالَ " مَنْ وَجَّهَ قِبْلَتَنَا وَصَلَّى صَلاَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَلاَ يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ " . فَقَامَ خَالِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَجَّلْتُ نُسُكِي لأُطْعِمَ أَهْلِي وَأَهْلَ دَارِي أَوْ أَهْلِي وَجِيرَانِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعِدْ ذِبْحًا آخَرَ " . قَالَ فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ لَبَنٍ هِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ . قَالَ " اذْبَحْهَا فَإِنَّهَا خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ وَلاَ تَقْضِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat Al-Bara bin 'Azib (may Allah be well pleased with him) said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood up on the Day of Sacrifice and Said: 'Whoever turn toward our Qiblah and prays as we pray and offers the same sacrifice as we do, let him not offer his sacrifice until he has prayed; My maternal uncle stood up and submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I hastened to slaughter my sacrifice, so that I could feed my family,. And the members of my household,; or my family and my neighbors,; The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said; 'Offer another sacrifice,; He said: 'I have a suckling she-goat kid that is dearer to me than two sheep raised for meat,' He said: 'Sacrifice it, for it is the better of your two sacrifices. But no Jadh'ah will do as a sacrifice for anyone after you."' (Sahih)
الترجمة الأردية
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم یوم الاضحیٰ کو کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: جو شخص ہمارے قبلے کی طرف رخ کرے، ہماری نماز پڑھے اور ہمارے طریقے سے قربانی کرے، وہ نماز پڑھنے تک ذبح نہ کرے۔ میرے ماموں کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی قربانی جلدی کر لی تاکہ اپنے گھر والوں اور اہل محلّہ یا گھر والوں اور پڑوسیوں کو کھلاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دوسرا ذبح کرو۔ انہوں نے عرض کیا: میرے پاس ایک دودھ پیتی بکری کا بچہ ہے جو مجھے گوشت کی دو بکریوں سے زیادہ پسند ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اسے ذبح کرو، یہ تمہاری دونوں قربانیوں میں بہتر ہے اور تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ کافی نہ ہوگی۔
