العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَعَاصِمٍ، وَجَامِعٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ كُنَّا نَبِيعُ بِالْبَقِيعِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ " . فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنِ اسْمِنَا ثُمَّ قَالَ " إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ " .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat Qais bin Abi Gharazah (may Allah be well pleased with him) said: "We used to sell in Al-Baqi, and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came to us. We used to be called Samasir (brokers) but he said: 'O merchants!' And called us by a name that was better than our name. Then he said: 'This selling involves (false) oaths and lies, so mix some charity with it
الترجمة الأردية
حضرت قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ بقیع میں خرید و فروخت کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم لوگوں کو«سماسرہ» ( دلال ) کہا جاتا تھا، تو آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو ہمارے نام سے بہتر تھا، پھر فرمایا: خرید و فروخت میں ( بغیر قصد و ارادے کے ) قسم اور جھوٹ کی باتیں شامل ہو جاتی ہیں تو اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۔
