العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مَاهَانَ، - بَصْرِيٌّ - عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَذَكَرَ، آخَرِينَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهَا فَقَالَتْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَخَاصَمَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ قَالَتْ فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat Ash-Sha'bi (may Allah be well pleased with him) said: "I came to Hadrat Fatimah bint Qais and asked her about the ruling of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) concerning her. She said that her husband divorced her irrevocably, and she referred her dispute with him, concerning accommodation and maintenance, to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). She said: 'He did not give me (the right to) accommodation and maintenance, and he told me to observe my 'Iddah in the house of Ibn Umm Maktum
الترجمة الأردية
شعبی کہتے ہیں کہ میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا اور ان سے ان کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ پوچھا؟ انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے طلاق بتہ ( تین طلاق قطعی ) دی تو میں ان سے نفقہ و سکنیٰ حاصل کرنے کا اپنا مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی تو آپ نے مجھے نفقہ و سکنیٰ پانے کا حقدار نہ ٹھہرایا اور مجھے حکم دیا کہ میں اب ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت کے دن گزاروں۔
