العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَهْلٌ، أَنَّ فِي الْجَنَّةِ، بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يُقَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الصَّائِمُونَ هَلْ لَكُمْ إِلَى الرَّيَّانِ مَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يَدْخُلْ فِيهِ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Sahi (may Allah be well pleased with him) narrated that in Paradise there is a gate called Ar'Rayyan, it will be said on the Day of Resurrection: "Where are those who used to fast? Would you like to enter through Ar-Rayyan?" whoever enters through it will never thirst again. Then when they have entered it will be closed behind them, and no one but they will enter through it
الترجمة الأردية
حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن پکار کر کہا جائے گا، روزہ دارو! کہاں ہو؟ کیا تمہیں ریان کی طرف آنے کی رغبت ہے؟ جو شخص اس میں داخل ہو گا، اور ( اس کے چشمے ( ریان ) کا پانی پئے گا ) وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا، جب وہ داخل ہو جائیں گے تو وہ بند کر دیا جائے گا۔ اس دروازے سے روزہ دار کے سوا کوئی اور داخل نہ ہو گا۔
