العربية (الأصل)
فأخبرَناه القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا أبو الموجِّه، حدثنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، عن مَعمَر، عن الزُّهري، عن عُرْوة بن الزُّبير، عن كُرْز بن علقمة قال: قال أعرابيٌّ: يا رسول الله، هل للإسلام من مُنتهًى؟ فقال:"نَعَم، أيُّما أهلِ بيتٍ من العرب والعَجَم أراد اللهُ بهم خيرًا، أدخلَ عليهم الإسلامَ، ثم تقعُ الفتنُ كأنها الظُّلَلُ"(1).هذا حديث صحيح وليس له عِلَّة، ولم يُخرجاه لتفرُّد عروةَ بالرواية عن كُرْز بن علقمة(2)، وكُرْز بن علقمة صحابيٌّ مُخرَّج حديثُه في مسانيد الأئمة. سمعتُ عليَّ بن عمر الحافظ يقول: مما يُلزَم مسلمٌ والبخاريُّ إخراجَه حديثُ كُرز بن علقمة: هل للإسلام مُنتهًى، فقد رواه عروةُ بن الزُّبير، ورواه الزهري وعبد الواحد بن قيس عنه(3). قال الحاكم: والدليل الواضح على ما ذكره أبو الحسن أنهما جميعًا قد اتَّفقا(4)على حديث عِتْبان بن مالك الأنصاري الذي صلَّى النبيُّ ﷺ في بيته، وليس له راوٍ غيرُ محمود بن الرَّبيع.
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Indeed, Allah will say on the Day of Resurrection: 'Where are those who loved each other for My majesty? Today I will shade them in My shade, on a Day when there is no shade except Mine.'" Al-Hakim graded it sahih according to the criteria of Muslim.
الترجمة الأردية
سیدنا کرز بن علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں، عرب یا عجم کا جو بھی گھرانہ ایسا ہو جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اس میں اسلام داخل کر دیتا ہے، پھر (اس کے بعد) ایسے فتنے واقع ہوں گے جیسے بادلوں کے سائے ہوتے ہیں۔“یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں، شیخین نے اسے صرف اس لیے نہیں لیا کیونکہ کرز بن علقمہ سے صرف عروہ راوی ہیں، حالانکہ کرز صحابی ہیں اور ائمہ کی مسانید میں ان کی حدیث موجود ہے۔ میں نے علی بن عمر حافظ (امام دارقطنی) کو سنا کہ یہ حدیث بخاری و مسلم پر لازم تھی، کیونکہ ان دونوں نے عتبان بن مالک کی حدیث پر اتفاق کیا ہے جن کا محمود بن ربیع کے سوا کوئی راوی نہیں ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 97]
