العربية (الأصل)
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا محمد بن أبي بكر المقدَّمي، حدثنا فُضَيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عُقْبة، حدثني إسحاق بن يحيى، عن عُبادة بن الصامت قال: قال رسول الله ﷺ:"أنا سيِّدُ الناس يومَ القيامة ولا فَخْر، ما من أحدٍ إلَّا وهو تحت لِوائي يومَ القيامة ينتظرُ الفَرَج، وإنَّ معي لواءَ الحمد، أنا أَمشي ويمشي الناسُ معي حتى آتيَ بابَ الجنة فأَستفتحَ فيقال: مَن هذا؟ فأقول: محمَّدٌ، فيقال: مرحبًا بمحمَّدٍ، فإذا رأيتُ ربِّي خَرَرتُ له ساجدًا أنظُرُ إليه"(1).هذا حديث كبير في الصفات والرُّؤية، صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه![التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 82 - على شرطهما ولم يخرجاه
الترجمة الإنجليزية
'Ubadah ibn al-Samit (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "I am the master of mankind on the Day of Resurrection, and this is no boast. There will be no one except that he will be under my banner on the Day of Resurrection awaiting relief. I shall carry the Banner of Praise (Liwa' al-Hamd), walking while people walk with me, until I come to the gate of Paradise and ask for it to be opened. It will be asked: 'Who is this?' I will say: 'Muhammad.' It will be said: 'Welcome to Muhammad.' When I see my Lord, I will fall down in prostration, gazing upon Him." Al-Hakim said this is a great hadith regarding the Divine attributes and the vision of Allah, sahih according to the criteria of both al-Bukhari and Muslim.
الترجمة الأردية
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں (بلکہ حقیقت کا بیان ہے)، قیامت کے دن کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو تنگی سے چھٹکارے کی امید میں میرے جھنڈے کے نیچے نہ ہو، اور میرے پاس حمد کا جھنڈا (لواء الحمد) ہوگا، میں چلوں گا اور لوگ میرے ساتھ چلیں گے یہاں تک کہ میں جنت کے دروازے پر آکر اسے کھلواؤں گا، پوچھا جائے گا: یہ کون ہے؟ میں کہوں گا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)، تو کہا جائے گا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خوش آمدید، پھر جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو اس کے سامنے سجدے میں گر پڑوں گا اور اس کا دیدار کروں گا۔“یہ (اللہ کی) صفات اور دیدارِ الٰہی کے بارے میں ایک عظیم حدیث ہے، جو شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 82]
