العربية (الأصل)
كما حدَّثَناه جعفر بن محمد بن(4)نُصَير الخُلدي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو نعيم، حدثنا يزيد بن المقدام بن شُرَيح، عن أبيه، عن شُريح بن هانئ، قال: حدثني أبي هانئُ بن يزيد: أنه وَفَدَ إلى رسول الله ﷺ، فسمعه النبيُّ ﷺ يَكنُونه بأبي الحَكَم، فقال:"إنَّ الله هو الحَكَمُ، لِمَ تُكنَى بأبي الحَكَم؟" قال: إنَّ قومي إذا اختلفوا حَكَمتُ بينهم، فرَضِيَ الفريقان، قال:"هل لكَ ولدٌ؟" قال: شُرَيحٌ وعبدُ الله ومسلمٌ بنو هانئ، قال:"فمَن أكبَرُهم؟" قال: شريحٌ، قال:"فأنتَ أبو شُرَيح"، فدعا له ولولده(5). وقد ذكرتُ في كتاب"المعرفة" في ذِكْر المخضرَمِين شريحَ بن هانئ، فإنه أدركَ الجاهليةَ والإسلامَ، ولم يَرَ رسولَ الله ﷺ، فصار عِدادُه في التابعين.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 62 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
الترجمة الإنجليزية
Shuraih ibn Hani' narrated from his father Hani' ibn Yazid (may Allah be pleased with him) that he came as a delegate to the Messenger of Allah (peace be upon him). The Prophet (peace be upon him) heard the people calling him 'Abu al-Hakam,' so he said: "Indeed, Allah is al-Hakam (the Judge). Why are you called Abu al-Hakam?" He said: "When my people disagree, I judge between them and both sides are satisfied." He asked: "Do you have children?" He said: "Shuraih, 'Abdullah, and Muslim, sons of Hani'." He asked: "Who is the eldest?" He said: "Shuraih." He said: "Then you are Abu Shuraih." And he supplicated for him and his children.
الترجمة الأردية
سیدنا شریح بن ہانی اپنے والد ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی بارگاہ میں وفد لے کر آئے، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے سنا کہ لوگ انہیں ’ابوالحکم‘ کی کنیت سے پکار رہے ہیں، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بے شک اللہ ہی الحکم (حقیقی فیصلہ کرنے والا) ہے، تم اپنی کنیت ابوالحکم کیوں رکھتے ہو؟“انہوں نے عرض کیا: میری قوم میں جب کوئی اختلاف ہوتا ہے تو میں ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں اور دونوں فریق راضی ہو جاتے ہیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”کیا تمہاری کوئی اولاد ہے؟“انہوں نے کہا: ہانی کے بیٹے شریح، عبداللہ اور مسلم ہیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”ان میں سب سے بڑا کون ہے؟“انہوں نے کہا: شریح، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تو پھر تم ’ابوشریح‘ ہو۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کے اور ان کی اولاد کے لیے دعا فرمائی۔میں نے کتاب”المعرفہ“میں مخضرمین کے ذکر میں شریح بن ہانی کا تذکرہ کیا ہے، انہوں نے جاہلیت اور اسلام دونوں کا زمانہ پایا مگر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو دیکھ نہ سکے اس لیے ان کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 62]
