العربية (الأصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب قال: سمعت سفيان بن عُيَينة يحدِّث عن بَيَانٍ، عن عامر الشَّعْبي، عن قَرَظَة بن كعب قال: خرجنا نريد العراقَ، فمشى معنا عمرُ بنُ الخطّاب إلى صَرَارٍ فتوضَّأ ثم قال: أتدرون لم مشيتُ معكم؟ قالوا: نعم، نحن أصحابُ رسول الله ﷺ مشيتَ معنا، قال: إنكم تأتون أهلَ قرية لهم دَوِيّ بالقرآن كدَوِيِّ النحل، فلا تبدؤونهم بالأحاديث فيَشغَلُونكم(1)، جَرَّدوا القرآنَ وأَقِلُّوا الروايةَ عن رسول الله ﷺ، وامضُوا وأنا شريكُكم. فلما قدم قَرَظةُ قالوا: حدِّثنا، قال: نهانا ابن الخطّاب(2).هذا حديث صحيح الإسناد له طرقٌ تُجمَع ويُذاكَر بها، وقَرَظةُ بن كعب الأنصاري صحابيٌّ سمع من رسول الله ﷺ، ومن شرطنا في الصحابة أن لا نَطوِيَهم، وأما سائر رواته فقد احتجَّا به.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 347 - صحيح وله طرق
الترجمة الإنجليزية
Al-Sha'bi narrated from Qarazah ibn Ka'b: We set out for Iraq, and Umar ibn al-Khattab walked with us to the place called Sirar. He performed ablution and said: "Do you know why I walked with you?" They said: "Yes, we are the Companions of the Messenger of Allah (peace be upon him), so you walked with us." He said: "You are going to the people of a village who buzz with the Qur'an like the buzzing of bees. Do not begin with hadiths lest they distract you. Keep to the Qur'an and narrate few hadiths from the Messenger of Allah (peace be upon him). Go, and I am your partner in this." When Qarazah arrived, they said: "Narrate to us." He said: "Ibn al-Khattab forbade us."
الترجمة الأردية
عامر شعبی سے روایت ہے کہ قرظہ بن کعب نے کہا: ہم عراق جانے کے ارادے سے نکلے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ صرار تک ہمارے ساتھ پیدل چلے، وضو کیا اور پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیوں پیدل چلا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے اصحاب ہیں اس لیے آپ ہمارے ساتھ چلے؛ انہوں نے فرمایا: تم ایک ایسی بستی کے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جہاں قرآن کی ایسی آوازیں گونجتی ہیں جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ہو، پس تم ان کے پاس جاتے ہی احادیث کا آغاز نہ کر دینا کہ وہ تمہیں مشغول کر دیں، تم قرآن کو خالص رکھو اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے (احادیث کی) روایت کم کرو، تم جاؤ میں (اس فیصلے میں) تمہارا شریک ہوں۔ پھر جب قرظہ وہاں پہنچے تو لوگوں نے کہا: ہمیں حدیث سنائیے؛ انہوں نے کہا: ہمیں ابن خطاب (عمر رضی اللہ عنہ) نے منع فرمایا ہے۔یہ ایک صحیح اسناد والی حدیث ہے جس کے کئی طرق ہیں جنہیں جمع کیا جاتا ہے، اور قرظہ بن کعب انصاری صحابی ہیں جنہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا ہے، اور صحابہ کے بارے میں ہماری شرط یہ ہے کہ ہم انہیں نظر انداز نہیں کریں گے، جبکہ باقی راویوں سے شیخین نے احتجاج کیا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 352]
