العربية (الأصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني معاوية بن صالح، أخبرني عبد الوهاب بن بُخْت، عن زِرِّ بن حُبَيش، عن صفوان بن عَسَّال المُرادِي: أنه جاء يسأله عن شيء، فقال: ما أعمَلَكَ إليَّ إلّا ذلك؟ قال: ما أَعمَلتُ إليك إلّا لذلك، قال: فأَبشِرْ، فإنه ما من رجلٍ يخرُج في طلبِ العلم إلّا بَسَطَت له الملائكةُ أجنحتَها، رِضًى بما يفعلُ، حتى يَرجِعَ(2). هذا إسناد صحيح، فإنَّ عبد الوهاب بن بُخْت من ثِقاتِ المصريِّين(1)وأثباتهم ممَّن يُجمَع حديثُه، وقد احتجَّا به، ولم يُخرجا هذا الحديث، ومَدَارُ هذا الحديث على حديث عاصم بن بَهْدلَة عن زِرٍّ، وقد أعرضا عنه بالكُلِّيّة، وله عن زر بن حُبيش شهودٌ ثقاتٌ غيرُ عاصم بن بَهْدلة. فمنهم المِنْهال بن عمرو، وقد اتَّفقا عليه:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 340 - إسناده صحيح
الترجمة الإنجليزية
Safwan ibn 'Assal al-Muradi narrated that he came to ask about something, and was asked: "Did you travel all this way just for that?" He said: "Yes, I came only for that." He was told: "Then rejoice, for no person goes out seeking knowledge except that the angels spread their wings for him, pleased with what he is doing, until he returns." Al-Hakim said: This chain is sound, as Abd al-Wahhab ibn Bukht is among the trustworthy and reliable narrators of Egypt.
الترجمة الأردية
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کسی چیز کے بارے میں سوال کرنے آئے، تو ان سے پوچھا گیا کہ کیا تم صرف اسی مقصد کے لیے اتنی دور سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں صرف اسی کے لیے حاضر ہوا ہوں؛ تو انہوں نے (بشارت دیتے ہوئے) کہا: تمہیں خوشخبری ہو، کیونکہ جو شخص بھی علم کی تلاش میں گھر سے نکلتا ہے، فرشتے اس کے اس عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ جائے۔یہ سند صحیح ہے، عبدالوہاب بن بخت ثقہ مصری راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث جمع کی جاتی ہے، شیخین نے ان سے احتجاج کیا ہے لیکن اس حدیث کو روایت نہیں کیا، اس حدیث کا مدار عاصم بن بہدلہ عن زر کی روایت پر ہے جسے شیخین نے مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے، لیکن زر بن حبیش سے عاصم کے علاوہ دیگر ثقہ شاہد موجود ہیں جن میں منحال بن عمرو بھی شامل ہیں جن پر شیخین کا اتفاق ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 344]
