العربية (الأصل)
حدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا موسى بن أيوب النَّصِيبي وصفوان بن صالح الدِّمشقي قالا: حدثنا الوليد بن مسلم الدمشقي، حدثنا ثَوْر بن يزيد، حدثني خالد بن مَعْدان، حدثني عبد الرحمن بن عمرو السُّلَمي وحُجْر بن حُجْر الكَلَاعي قالا: أتينا العِرباضَ بن ساريةَ، وهو ممَّن نَزَلَ فيه: ﴿وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنْفِقُونَ﴾[التوبة: 92]، فسلَّمْنا وقلنا: أتيناك زائرينَ ومُقتبسِين، فقال العرباضُ: صلَّى بنا رسول الله ﷺ الصبحَ ذات يومٍ، ثم أقبَلَ علينا فوعَظَنا موعظةً بليغةً، ذَرَفَت منها العيون، ووَجِلَت منها القلوب، فقال قائل: يا رسول الله، كأنها موعظةُ مُودِّع، فما تَعهَدُ إلينا، فقال:"أُوصِيكُم بتقوى الله والسَّمع والطاعة، وإنْ عبدًا حَبَشيًّا، فإنه مَن يَعِشْ منكم فسيرى اختلافًا كثيرًا، فعليكم بسُنَّتي وسُنَّة الخُلفاء الراشدين المَهديِّين، فتمسَّكُوا بها، وعَضُّوا عليها بالنَّواجِذ، وإيَّاكم ومُحدَثاتِ الأُمور، فإنَّ كل محدَثةٍ بدعةً، وكلَّ بدعةٍ ضلالةٌ"(1). ومنهم يحيى بن أبي المُطاع القرشي:
الترجمة الإنجليزية
Al-'Irbad ibn Sariyah narrated: The Messenger of Allah (peace be upon him) led us in the Fajr prayer one day, then turned to us and gave us an eloquent admonition from which eyes shed tears and hearts trembled. Someone said: "O Messenger of Allah, this seems like a farewell sermon. What do you instruct us?" He said: "I enjoin upon you the fear of Allah, and to listen and obey, even if it be an Abyssinian slave, for whoever among you lives long will see much disagreement. So hold fast to my Sunnah and the Sunnah of the rightly-guided caliphs. Cling to it firmly and bite onto it with your molars. Beware of newly invented matters, for every innovation is an innovation (bid'ah), and every innovation is misguidance."
الترجمة الأردية
سیدنا العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی:﴿وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنْفِقُونَ﴾”اور نہ ان لوگوں پر (کوئی گناہ ہے) کہ جب وہ آپ کے پاس آئے کہ آپ ان کے لیے سواری کا انتظام کریں اور آپ نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں، تو وہ اس حال میں واپس لوٹے کہ ان کی آنکھیں غم کی وجہ سے آنسو بہا رہی تھیں کہ وہ (جہاد میں) خرچ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے“[سورة التوبة: 92]، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ایک دن ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور پھر ہمیں نہایت بلیغ وعظ فرمایا جس سے آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور دل دہل گئے، کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا لگتا ہے جیسے یہ کسی رخصت ہونے والے کا وعظ ہو، آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں تمہیں تقویٰ الہی اور (حکمران کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ وہ حبشی غلام ہی ہو، کیونکہ تم میں سے جو جئے گا وہ شدید اختلافات دیکھے گا، پس تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے پر کاربند رہنا، اسے مضبوطی سے پکڑ لینا اور اسے ڈاڑھوں سے تھام لینا، اور دین میں نئے کاموں سے بچنا کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 336]
