العربية (الأصل)
حدثنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم العَدْل ببغداد، حدثنا أبو الأحوَص محمد بن الهيثم القاضي. وحدثنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي من أصل كتابه - وسأله عنه أبو علي الحافظ - حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي؛ قالا: حدثنا نُعَيم بن حمّاد، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن صالح بن كَيْسان، عن الزُّهْري، عن محمد بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه جُبير قال: قام رسول الله ﷺ بالخَيْف فقال:"نَضَّرَ اللهُ عبدًا سَمِعَ مَقالَتي فوَعَاها ثم أدَّاها إلى مَن لم يَسمَعْها، فرُبَّ حاملِ فقهٍ لا فقهَ له، ورُبَّ حاملِ فقهٍ إلى مَن هو أفقهُ منه. ثلاثٌ لا يُغِلُّ عليهنَّ قلبُ مؤمنٍ: إخلاصُ العمل لله، والطاعةُ لذَوِي الأمر، ولزومُ جماعة المسلمين، فإنَّ دعوتهم تُحِيطُ من ورائِهم"(2).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، قاعدةٌ من قواعد أصحاب الرِّوايات، ولم يُخرجاه، فأما البخاري فقد روى في"الجامع الصحيح" عن نُعَيم بن حماد، وهو أحد أئمة الإسلام. وله أصلٌ في حديث الزُّهري من غير حديث صالح بن كَيْسان، فقد رواه محمد بن إسحاق بن يسار من أوجهٍ صحيحةٍ عنه عن الزهري:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 294 - على شرطهما
الترجمة الإنجليزية
Jubayr ibn Mut'im narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) stood at al-Khayf and said: "May Allah brighten the face of a servant who hears my words, retains them, and conveys them to those who have not heard them. Many a carrier of knowledge is not himself a person of deep understanding, and many a carrier of knowledge conveys it to one who has deeper understanding than him. Three things the heart of a believer never harbors treachery regarding: sincerity of deeds for Allah, obedience to those in authority, and adhering to the Muslim community, for their supplication encompasses those behind them." Al-Hakim said: This hadith is sound according to the conditions of the two Shaykhs, and it is a foundational principle among the scholars of hadith, though they did not include it.
الترجمة الأردية
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے (مسجدِ) خیف میں کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا:”اللہ اس بندے کو شاداب و تروتازہ رکھے جس نے میری بات سنی، اسے محفوظ کیا اور پھر اسے ان لوگوں تک پہنچا دیا جنہوں نے اسے نہیں سنا، کیونکہ بہت سے علم و فہم کی بات لے جانے والے خود فقیہ (گہری سمجھ رکھنے والے) نہیں ہوتے، اور بہت سے فقہ کی بات ایسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ سمجھ بوجھ والے ہوتے ہیں۔ تین باتیں ایسی ہیں جن پر کسی مومن کا دل کینہ (یا خیانت) نہیں رکھتا: اللہ کے لیے عمل میں اخلاص پیدا کرنا، حکمرانوں کی خیر خواہی اور اطاعت کرنا، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ وابستہ رہنا، کیونکہ ان کی دعا (یا پکار) ان کی پشت پناہی کرتی ہے۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور علمِ حدیث کے ماہرین کے نزدیک ایک اہم قاعدہ ہے، اگرچہ انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں نعیم بن حماد سے روایت لی ہے جو ائمہ اسلام میں سے ایک ہیں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 297]
