العربية (الأصل)
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن يزيد بن أبي حَبِيب، عن سالم بن أبي سالم، عن معاوية بن مُعتِّب، عن أبي هريرة أنه سمعه يقول: سألتُ رسولَ الله ﷺ: ماذا ردَّ إليك ربُّك في الشفاعة؟ فقال:"والذي نفسي بيده، لقد ظننتُ أنك أولُ من يسألُني عن ذلك؛ لِمَا رأيتُ من حِرْصِك على العلم، والذي نفسي بيده لَمَا يُهِمُّني من انقصافِهم على باب الجنة، أهمُّ عندي من تمام شفاعتي، وشفاعتي لمن شَهِدَ أن لا إله إلّا الله مخلِصًا، يُصدِّقُ قلبُه لسانَه، ولسانُه قلبَه"(1).هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ معاوية بن مُعتِّب مِصْري من التابعين. وقد خرَّج البخاري(2)حديث عمرو بن أبي عمرو مولى المطَّلِب، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبي هريرة قال: قلت: يا رسول الله، مَن أسعدُ الناسِ بشفاعتك؟ الحديث، بغير هذا اللفظ والمعنى قريبٌ منه.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 233 - صحيح الإسناد
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah narrated: I asked the Messenger of Allah (peace be upon him): "What did your Lord grant you regarding intercession?" He said: "By the One in Whose hand is my soul, I thought you would be the first to ask me about that, given the eagerness for knowledge I have seen in you. By the One in Whose hand is my soul, what concerns me more than the completion of my intercession is the sight of them pressing against the gate of Paradise. And my intercession is for whoever bears witness that there is no deity except Allah, sincerely, his heart confirming what his tongue says, and his tongue confirming what his heart believes."
الترجمة الأردية
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے عرض کیا: آپ کے رب نے شفاعت کے بارے میں آپ کو کیا جواب عطا فرمایا؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میرا یہ گمان تھا کہ تم ہی سب سے پہلے مجھ سے اس بارے میں سوال کرو گے، کیونکہ میں نے علم کے حصول کے لیے تمہارا حرص و شوق دیکھ لیا تھا؛ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! لوگوں کا جنت کے دروازے پر (کثرت اور ہجوم کی وجہ سے) ٹوٹ پڑنا مجھے اپنی مکمل شفاعت سے بھی زیادہ اہمیت والا محسوس ہوتا ہے، اور میری شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جس نے سچے دل سے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس حال میں کہ اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرتی ہو۔“اس حدیث کی سند صحیح ہے، اور معاویہ بن معتب مصری تابعین میں سے ہیں۔ امام بخاری نے اس حدیث کو عمرو بن ابی عمرو (مولیٰ مطلب) کے واسطے سے نقل کیا ہے جس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ آپ کی شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت مند کون ہوگا، اگرچہ اس کے الفاظ مختلف ہیں لیکن معنی اس کے قریب ہی ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 234]
