العربية (الأصل)
حدثنا أبو الحسن محمد بن محمد بن الحسن، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا سليمان بن داود الهاشمي، حدثنا علي بن هاشم بن البريد، حدثنا عبد الجبار ابن العباس الشِّبامي(2)، عن عَوْن بن أبي جُحَيفة السُّوَائي، عن عبد الرحمن بن عَلْقمة الثقفي، عن عبد الرحمن بن أبي عَقِيل الثقفي قال: قَدِمتُ على رسول الله ﷺ في وفد ثقيفٍ، فعَلِقْنا طريقًا من طرق المدينة حتى أنخنا بالباب، وما في الناس رجلٌ أبغض إلينا من رجل نَلِجُ عليه منه، فدخلنا وسلَّمنا وبايعنا، فما خرجنا من عنده حتى ما في الناس رجلٌ أحبَّ إلينا من رجلٍ خرجنا من عنده، فقلت: يا رسول الله، ألا سألت ربَّك مُلكًا كمُلك سليمان؟ فضحك وقال:"لعلَّ لصاحبكم عند الله أفضل من مُلك سليمان، إنَّ الله لم يبعث نبيًا إلا أعطاه دعوةٌ، فمنهم من اتخذ بها دنيا فأُعطيها، ومنهم من دعا بها على قومه فأُهلِكُوا بها، وإنَّ الله أعطاني دعوةً فاختبأتُها عند ربي شفاعةً لأمَّتي يوم القيامة"(3). وقد احتجَّ مسلم بعليِّ بن هاشم، وعبدُ الرحمن بن أبي عقيل الثقفي صحابيٌّ قد احتَجَّ به أئمتُنا في مسانيدهم، فأمّا عبد الجبار بن العباس فإنه ممَّن يُجمَع حديثُه وتُعَدُّ مسانيدُه في الكوفيين(1).[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 226 - ليس بثابت
الترجمة الإنجليزية
Abd al-Rahman ibn Abi Aqil al-Thaqafi narrated: "I came to the Messenger of Allah (peace be upon him) with a delegation from Thaqif. We followed one of the roads of Madinah until we made our camels kneel at his door. At that time, there was no one more hated to us than the person we were about to meet. But after we entered, greeted him, and pledged allegiance, there was no one dearer to us than the one we had just left. I said to him: 'O Messenger of Allah, why did you not ask us for something?' He said: 'Asking from people? A man should not ask except from Allah, the Mighty and Majestic.' Then we asked him about wine and he forbade it — or disliked it being made."
الترجمة الأردية
سیدنا عبدالرحمن بن ابی عقیل ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں بنو ثقیف کے وفد کے ساتھ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا، ہم مدینہ کے ایک راستے پر چلے یہاں تک کہ (آپ کے) دروازے پر اونٹ بٹھا دیے۔ اس وقت لوگوں میں کوئی شخص ایسا نہ تھا جو ہمارے نزدیک اس شخص سے زیادہ ناپسندیدہ ہو جس کے پاس ہم داخل ہو رہے تھے (یعنی پہلے ہمیں آپ سے شدید بغض تھا)، لیکن جب ہم داخل ہوئے، سلام کیا اور بیعت کی، تو جب ہم وہاں سے نکلے تو لوگوں میں کوئی بھی ہمیں اس شخص سے زیادہ محبوب نہ تھا جس کے پاس سے ہم نکل کر آ رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنے رب سے سلیمان علیہ السلام جیسی بادشاہت نہیں مانگی؟ آپصلی اللہ علیہ وسلممسکرائے اور فرمایا:”شاید تمہارے صاحب (نبیصلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے اللہ کے پاس سلیمان علیہ السلام کی بادشاہت سے بھی افضل چیز ہے، اللہ نے ہر نبی کو ایک (ایسی) دعا دی جسے قبول کیا جانا تھا، بعض نے اس سے دنیا مانگی تو انہیں دے دی گئی، بعض نے اپنی قوم کے خلاف دعا کی تو وہ ہلاک کر دیے گئے، جبکہ اللہ نے مجھے بھی ایک دعا دی تو میں نے اسے اپنے رب کے پاس اپنی امت کی شفاعت کے لیے قیامت کے دن تک چھپا کر (محفوظ کر) رکھا ہے۔“امام مسلم نے علی بن ہاشم سے احتجاج کیا ہے، اور عبدالرحمن بن ابی عقیل ثقفی ایک صحابی ہیں جن سے ہمارے ائمہ نے اپنی مسانید میں احتجاج کیا ہے، جہاں تک عبدالجبار بن عباس کا تعلق ہے تو وہ ان راویوں میں سے ہیں جن کی حدیثیں جمع کی جاتی ہیں اور کوفیوں میں ان کی مسانید کا شمار ہوتا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 227]
