العربية (الأصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سنان القزَّاز، حدثنا أبو عاصم، حدثنا زكريا بن إسحاق، عن عمرو بن دينار، عن عطاء، عن ابن عباس: ﴿الذين يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ﴾[النجم: 32]، قال: هو أن يأتي الرجلُ الفاحشة ثم يتوب منها، قال: وقال رسول الله ﷺ:"اللهمَّ إِن تَغفِرْ تَغفِرْ جمّا … وأيُّ عبدٍ لك لا ألَمّا"(1)هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وإنما خرَّجا حديث عبد الله بن طاووس عن أبيه عن ابن عباس أنه قال: لم أرَ شيئًا أقربَ باللَّمَم من الذي قال أبو هريرة:"كُتِبَ على ابن آدم حظُّه من الزنى" الحديث(2). والذي عندي أنهما تَرَكا حديثَ عمرو بن دينار للحديث الذي:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 180 - على شرطهما
الترجمة الإنجليزية
Ibn Abbas narrated regarding Allah's saying: "Those who avoid the major sins and immoralities" [al-Najm: 32], he said: This refers to a person who commits an immoral act and then repents from it. The narrator said that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "O Allah, if You forgive, You forgive abundantly... and which of Your servants has not committed minor sins?" This hadith is authentic upon the conditions of the two Shaykhs, but they did not include it.
الترجمة الأردية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:﴿الذين يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ﴾”جو لوگ بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں“[سورة النجم: 32]کے بارے میں فرمایا کہ: اس سے مراد وہ شخص ہے جس سے کوئی بے حیائی کا کام سرزد ہو جائے اور پھر وہ اس سے توبہ کر لے، راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے اللہ! اگر تو بخش دے تو سب کے سب (گناہ) بخش دے... اور تیرا کون سا بندہ ہے جس سے لغزش (چھوٹا گناہ) نہ ہوا ہو۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف عبداللہ بن طاؤس کی اپنے والد کے واسطے سے ابن عباس کی وہ روایت لی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ کے اس قول سے زیادہ کسی چیز کو«لمم»(چھوٹے گناہ) کے قریب نہیں دیکھا کہ”ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا گیا ہے...“الخ۔ میرے نزدیک ان دونوں نے عمرو بن دینار کی اس حدیث کو (آنے والی) اگلی حدیث کی وجہ سے چھوڑا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 181]
