العربية (الأصل)
حدَّثَناه أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا الحسين بن محمد ابن زياد القَبَّاني، حدثنا داود بن رُشيد، حدثنا مُعمَّر(2)بن سليمان، عن عبد الله بن بشر، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر، عن عمر قال: دَخَلَ رجلان على رسول الله ﷺ فسألاهُ في شيءٍ، فدعا لهما بدينارين، فإذا هما يُثنيان خيرًا، فقال:"لكن فلانٌ ما يقول ذلك، ولقد أعطيتُه ما بين عشرةٍ إلى مئة فما يقول ذلك، فَإِنَّ أحدكم ليخرُجُ بصدقتِه من عندي متأبِّطَها، وإنما هي له نارٌ" فقلت: يا رسول الله، كيف تُعطيه وقد علمت أنه له نار؟ قال:"فما أصنَعُ؟ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ يسألوني، ويأبى الله لي البخل"(3). أما معمَّر بن سليمان الرَّقِّي فلم يخرجاه، وقد خرَّج مسلم عن عبد الله بن بشر الرَّقِّى(1)، إلّا أنَّ هذا الحديث ليس بعِلَّةٍ لحديث الأعمش عن أبي صالح، فإنه شاهد له بإسناد آخر.
الترجمة الإنجليزية
Salman al-Farisi (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Indeed, Allah has one hundred mercies. Through one of them, creation shows compassion to one another. And ninety-nine are reserved for the Day of Resurrection." Al-Hakim graded it sahih.
الترجمة الأردية
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور کسی چیز کا سوال کیا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کے لیے دو دینار منگوائے، وہ دونوں آپ کی تعریف کرنے لگے، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”لیکن فلاں شخص ایسی بات نہیں کرتا، حالانکہ میں نے اسے دس سے سو (دینار) کے درمیان عطا کیے ہیں مگر وہ ایسی تعریف نہیں کرتا، بے شک تم میں سے کوئی میرے پاس سے اپنی لی ہوئی خیرات کو اپنی بغل میں دبا کر نکلتا ہے حالانکہ وہ اس کے لیے آگ ہوتی ہے“، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اسے کیوں دیتے ہیں جبکہ آپ جانتے ہیں کہ وہ اس کے لیے آگ ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں کیا کروں؟ وہ مانگنے کے سوا کسی بات پر راضی نہیں ہوتے، اور اللہ کو میرا بخل کرنا پسند نہیں۔“معمر بن سلیمان الرقی کی تخریج شیخین نے نہیں کی، حالانکہ امام مسلم نے عبداللہ بن بشر الرقی سے تخریج کی ہے، مگر یہ حدیث اعمش عن ابی صالح کی حدیث کے لیے علت نہیں ہے بلکہ دوسرے اسناد سے اس کے لیے شاہد ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 145]
