العربية (الأصل)
سمعت أبا سعيد بن أبي بكر بن أبي عثمان يقول: سمعت الإمام أبا بكر محمد بن إسحاق يقول: سمعت أحمد بن يوسف السُّلمي يقول: سمعت عبد الرزاق يقول: كنت بمكة فكلَّمني وَكِيعُ بن الجرَّاح أن أقرأ عليه وعلى ابنه كتاب الوصايا، فقلت: إذا صِرْتُ بمنًى حدَّثتُ، فلما صرتُ بمنًى حَمَلتُ كتابي فحدَّثتُه، ثم ذهبتُ إلى مكة للزيارة فلقيني أبو أسامة فقال لي: يا يماني، خَدَعَك ذاك الغلامُ الرُّؤاسِيُّ، فقلت: ما خَدَعَني؟ قال: حملت إليه كتابك فحدَّثته، فقلت: ليس بعَجَبٍ أَن يَحْدَعَني، حدثني بشرُ بن رافع، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"المؤمنُ غِرٌّ كريم، والفاجرُ خِبٌّ لئيم". قال: فأخرج ألواحه(2)، فقال: أمل عليَّ، فقلت: والله لا أُمليه عليك، فذهب.
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When the deceased is placed in his grave, two black-and-blue angels come to him. One is called Munkar and the other Nakir. They ask: 'What did you used to say about this man (Muhammad)?' He says what he used to say: 'He is the servant and Messenger of Allah. I bear witness that there is no god but Allah and that Muhammad is His servant and Messenger.' They say: 'We already knew that you would say this.' Then his grave is expanded for him seventy by seventy cubits, and it is illuminated for him. Then he is told: 'Sleep.' He says: 'Let me go back to my family and tell them.' They say: 'Sleep like the sleep of a newlywed whom only the most beloved person awakens,' until Allah resurrects him from his resting place. But if he is a hypocrite, he says: 'I heard people saying something and I said the same; I do not know.' They say: 'We already knew you would say this.' The earth is told: 'Close in on him,' and it closes in until his ribs interlock, and he continues to be punished therein until Allah resurrects him from his resting place."
الترجمة الأردية
میں نے ابوسعید بن ابی بکر بن ابی عثمان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے امام ابوبکر محمد بن اسحاق کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے احمد بن یوسف سلمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبدالرزاق کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں مکہ میں تھا تو وکیع بن جراح نے مجھ سے بات کی کہ میں انہیں اور ان کے بیٹے کو ’کتاب الوصایا‘ پڑھ کر سناؤں، میں نے کہا: جب میں منیٰ پہنچوں گا تب سناؤں گا، چنانچہ جب میں منیٰ پہنچا تو میں اپنی کتاب لایا اور انہیں سنائی، پھر میں زیارت کے لیے مکہ گیا تو مجھے ابو اسامہ ملے اور انہوں نے مجھ سے کہا: اے یمانی! اس رواسی لڑکے (وکیع) نے تمہیں دھوکہ دے دیا، میں نے پوچھا: اس نے مجھے کیسے دھوکہ دیا؟ انہوں نے کہا: تم اپنی کتاب اس کے پاس لے گئے اور اسے (پہلے ہی) حدیثیں سنا دیں، میں نے کہا: اس کا مجھے دھوکہ دینا کوئی تعجب کی بات نہیں، کیونکہ مجھ سے بشر بن رافع نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے ابوسلمہ عن ابی ہریرہ کی سند سے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مومن سادہ لوح اور شریف النفس ہوتا ہے، اور بدکار مکار اور ذلیل صفت ہوتا ہے“، (یعنی وکیع نے اس مومنانہ سادگی کا فائدہ اٹھایا)۔ راوی کہتے ہیں کہ تب ابو اسامہ نے اپنی تختیاں نکالیں اور کہا: مجھے یہ حدیث املا کروا دو، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں یہ املا نہیں کرواؤں گا، پس وہ چلے گئے۔میں نے علی بن عیسیٰ کو سنا، وہ حسین بن محمد بن زیاد سے اور وہ محمد بن یحیٰ سے نقل کرتے تھے کہ ابو الاسباط الحارثی ہی بشر بن رافع ہیں۔امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے بشر بن رافع کو یہاں صرف تائید (شاہد) کے طور پر ذکر کیا ہے، جبکہ ہمارے مشائخ نے ان کے بارے میں نرمی کی بات کہی ہے۔ مجھے اس حدیث کا ایک اور شاہد خارجہ کی حدیث سے بھی ملا ہے:[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 132]
