العربية (الأصل)
أخبرَنيهِ أبو بكر بن إسحاق الفقيه - فيما قرأتُ عليه من أصل كتابه - أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا خالد بن عبد الله، عن العلاء بن المسيَّب، عن مُصعَب بن سعد، عن أبيه قال: سُئِلَ النبيُّ ﷺ: أَيُّ الناس أشدُّ بَلاءً؟ قال:"الأنبياءُ، ثمَّ الأمثلُ فالأمثلُ، فإذا كان الرجل صُلْبَ الدِّين، يُبتَلى الرجلُ على قَدْرٍ دينه، فمَن ثَخُنَ دينُه ثَخُنَ بلاؤُه، ومَن ضَعُفَ دينُه ضَعُفَ بلاؤُه"(1). وهذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وشاهده:
الترجمة الإنجليزية
Al-'Abbas ibn 'Abd al-Muttalib (may Allah be pleased with him) narrated that he heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "He has tasted the flavor of faith — the one who is pleased with Allah as his Lord, with Islam as his religion, and with Muhammad as his Messenger."
الترجمة الأردية
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے سوال کیا گیا: لوگوں میں سب سے سخت آزمائش کن پر ہوتی ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”انبیاء پر، پھر ان پر جو ان کے بعد (مرتبے میں) سب سے بہتر ہوں، پھر ان پر جو ان کے بعد سب سے بہتر ہوں۔ جب آدمی اپنے دین میں مضبوط ہوتا ہے، تو اسے اس کے دین کی قدر کے مطابق آزمایا جاتا ہے؛ جس کا دین جتنا ٹھوس ہوگا، اس کی آزمائش اتنی ہی سخت ہوگی، اور جس کا دین کمزور ہوگا اس کی آزمائش بھی (اسی لحاظ سے) ہلکی ہوگی۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 121]
