الترجمة الإنجليزية
Safwan ibn Muhriz narrated that Jundub ibn Abdullah al-Bajali (may Allah be pleased with him) sent word to As'as ibn Salamah during the fitnah of Abdullah ibn al-Zubayr, saying: "Gather some of your brethren so that I may speak with them." They gathered and Jundub came wearing a yellow burnus. He said: "Speak as you have been speaking." When his turn came, he removed his burnus from his head and said: "I have only come to narrate to you a hadith of your Prophet. The Messenger of Allah (peace be upon him) sent a party of Muslims against a group of polytheists, and they met in battle. Among the polytheists was a man who would attack any Muslim he wished and kill him. A Muslim found him off guard — and people told us that Muslim was Usamah ibn Zayd. When he raised his sword against him, the man said La ilaha illallah, but he killed him anyway. A messenger brought the news to the Messenger of Allah (peace be upon him), who asked about the details. When told about that man, he summoned the one who killed him and asked: 'Why did you kill him?' He said: 'O Messenger of Allah, he had caused great harm to the Muslims; he killed so-and-so and so-and-so.' Then he said: 'When I overpowered him and he saw the sword, he said La ilaha illallah.' The Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'You killed him?' He said: 'Yes.' He said: 'What will you do with La ilaha illallah when it comes on the Day of Judgment?' He said: 'O Messenger of Allah, ask forgiveness for me!' He said: 'What will you do with La ilaha illallah when it comes on the Day of Judgment?' He kept saying nothing other than: 'What will you do with La ilaha illallah when it comes on the Day of Judgment?'"
الترجمة الأردية
صفوان بن محرز سے روایت ہے کہسیدنا جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے عسعس بن سلامہ کو کہلا بھیجا جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا فتنہ ہوا کہ تم اپنے چند بھائیوں کو اکٹھا کرو تاکہ میں ان سے باتیں کروں۔ عسعس نے لوگوں کو کہلا بھیجا۔ وہ اکٹھے ہوئے تو سیدنا جندب رضی اللہ عنہ آئے، ایک زرد برنس اوڑھے ہوئے تھے (برنس وہ ٹوپی ہے جسے لوگ شروع زمانہ اسلام میں پہنتے تھے) انہوں نے کہا کہ تم باتیں کرو جو کرتے تھے۔ یہاں تک کہ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کی باری آئی (یعنی ان کو بات ضرور کرنا پڑی) تو انہوں نے برنس اپنے سر سے ہٹا دیا اور کہا کہ میں تمہارے پاس صرف اس ارادے سے آیا ہوں کہ تم سے تمہارے پیغمبر کی حدیث بیان کروں۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکوں کی ایک قوم پر بھیجا اور وہ دونوں ملے (یعنی آمنا سامنا ہوا میدان جنگ میں) تو مشرکوں میں ایک شخص تھا، وہ جس مسلمان پر چاہتا اس پر حملہ کرتا اور مار لیتا۔ آخر ایک مسلمان نے اس کو غفلت (کی حالت میں) دیکھا۔ اور لوگوں نے ہم سے کہا (کہ) وہ مسلمان سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر جب انہوں نے تلوار اس پر سیدھی کی تو اس نے کہا لا الٰہ الا اللہ لیکن انہوں نے اسے مار ڈالا اس کے بعد قاصد خوشخبری لے کر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آیا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس سے حال پوچھا۔ اس نے سب حال بیان کیا یہاں تک کہ اس شخص کا بھی حال کہا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کو بلایا اور پوچھا کہ تم نے کیوں اس کو مارا؟ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! اس نے مسلمانوں کو بہت تکلیف دی، فلاں اور فلاں کو مارا اور کئی آدمیوں کا نام لیا۔ پھر میں اس پر غالب ہوا، جب اس نے تلوار کو دیکھا تو لا الٰہ الا اللہ کہنے لگا۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا تم نے اس کو قتل کر دیا؟ انہوں نے کہا ہاں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ تم کیا جواب دو گے لا الٰہ الا اللہ کا جب وہ قیامت کے دن آئے گا؟ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے لئے بخشش کی دعا کیجئے! آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا تم کیا جواب دو گے لا الٰہ الا اللہ کا جب وہ قیامت کے دن آئے گا؟ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس سے زیادہ کچھ نہ کہا اور یہی کہتے رہے کہ تم کیا جواب دو گے لا الٰہ الا اللہ کا جب وہ قیامت کے دن آئے گا؟[مختصر صحيح مسلم/حدیث: 8]
