العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ، قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلاً . قَالَتْ فَغِرْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ فَرَأَى مَا أَصْنَعُ فَقَالَ " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ " . فَقُلْتُ وَمَا لِي لاَ يَغَارُ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَقَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ " . قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَمَعِيَ شَيْطَانٌ قَالَ " نَعَمْ " . قُلْتُ وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَالَ " نَعَمْ " . قُلْتُ وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَعَمْ وَلَكِنْ رَبِّي أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat A'isha the wife of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), reported that one day Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) came out of her (apartment) during the night and she felt jealous. Then he came and he saw me (in what agitated state of mind) I was. He said:Hadrat A'isha, what has happened to you? Do you feel jealous? Thereupon she said: How can it be (that a woman like me) should not feel jealous in regard to a husband like you. Thereupon Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated: It was your devil who had come to you, and she said: the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), is there along with me a devil? He said: Yes. I said: Is a devil attached to everyone? He said: Yes. I (Hadrat Aisha) again said: the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), is it with you also? He said: Yes, but my Lord has helped me against him and as such I am absolutely safe from his mischief
الترجمة الأردية
عروہ نے کہا : نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اہلیہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک رات ان کے پاس سے اٹھ کر باہر نکل گئے ۔ ( حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : مجھے آپ کے معاملے میں شدید غیرت محسوس ہوئی ، پھر آپ واپس آئے اور دیکھا کہ میں کیا کر رہی ہوں ( شدید غصے کے عالم میں ہوں ) تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !تمھیں کیاہوا ہے کیا تم غیرت میں مبتلا ہو گئی ہو؟ " میں نے کہا : مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ جیسی عورت کو ( جس کی کئی سو کنیں ہوں ) آپ جیسے مرد پر ( جو ایک کو ایک سے بڑھ کر محبوب ہو ) غیرت نہ آئے " تورسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " کیا تمھارے پاس تمھارا شیطان آیا تھا ( اور اس نے تمھیں شک میں مبتلا کیا؟ ) " ( حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم !کیا میرے ساتھ شیطان بھی ہے؟آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " ہاں ۔ " میں نے کہا : ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " میں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم !آپ کے ساتھ بھی ہے؟آپ نے فرمایا : " ہاں لیکن میرے رب نے اس پر ( قابو پانے میں ) میری مددفرمائی اور وہ اسلام لے آیا ہے ۔
